خدا کے نام ہر مذہب میں اور ہر زبان میں الگ الگ ہیں، خدا کی صفات تو عام طور پر ایک جیسی ہی ملتی ہیں، کہ وہ خالق ہے، مالک، ہے رزق دینے اولا، گناہ معاف کرنے والا، رحم کرنے والا اور دعا سننے والا۔ پھر بھی مختلف مذاہب میں خدا کی کچھ خصوصیات الگ ہیں دوسرے مذہب سے، جس وجہ سے اس مذہب میں خدا کا کچھ ناموں کا مطلب وہ نہیں ہوتا جو باقی مذہب میں ملتا ہے۔ جیسے مسیحیت میں صلیبی موت کے عقیدے نے مسیح کو اکلوتا، بیٹا، روح القدس کا نام دیا کيا ہے۔ جبکہ اسلام میں خدا کے ناموں میں واحد ہے، جس کا معنی ہے کہ وہ صرف ایک ہے، اس کا کوئی بیٹا نہیں۔ مسیحیت، یہودیت میں خدا کو یہوداہ، ایلوہیم، ایل، وہ، میں جو ہوں سو میں ہوں، جیسے نام بھی دیئے گئے۔
مسلمان خدا کے لیے اللہ کا نام استعمال کرتے ہیں، اللہ عربی زبان کا لفظ ہے۔ مسلمان اللہ کو تمام جہانوں کا خالق، مالک اور رب مانتے ہیں۔ اسلام میں اللہ کی ذات کے ساتھ جو خصوصیات منسلک ہیں ان سے توحیدیت کا اظہار ہوتا ہے اور شرک و کفر کی نفی کی جاتی ہے۔ یہ نام قرآن میں کئی مقامات پر خدا کے لیے آیا ہے۔
توریت میں سب سے زیادہ جو اسم استعمال ہوا ہے وہ ایلوہم اور یہوواہ ہے۔ توریت میں یہوواہ 6823 مرتبہ اور ایلوہم 156 مرتبہ آیا ہے اور کئی بار یہوواہ ایلوہم ایک ساتھ بھی ملتا ہے۔ یہوواہ کے لغوی معنی ”وہ رب“ یا ”وہ ذات“ کے ہیں۔
حواریوں نے
انجیل میں خدا کو کئی ناموں سے پکارا ہے۔ سب سے زیادہ جو نام انجیل میں ملتا ہے، وہ ہے تھیوس (جس کے معنی وہی ہیں جو ایل کے ہیں یعنی خدا) اور دوسرا اِسم کوریوس جس کے وہی معنی ہیں جو یہوواہ کے ہیں یعنی ”وہ“ اس کے علاوہ انجیل میں موجود چند
یونانی زبان کے اسمائے الہٰیہ یہ ہیں۔